قرآن کی چار بنیادی
اص یر ئی میں ایک
الاعلی مودودي
'أح کا مو اصطا
فر ات کی رت سمجھذز]
کإ] لی[] اس کی بنیادی
اصطلاحات کو سمجھنا
ضروری [][][] ان میں سب
س(] ا[م اصطلاح 'ا01' ]1٢٢٢٦
آئی[] اس ک([] لغوی اور
ا اصطلات کو سمجھتۃ[]
ا۔1 ک[] تعور کا
إ
ت٭0 ۲ ۱ :
لفظ "ا1[[]' میں چار بنیادی
کسی إاستی کو معبود
بنات[] |للیں|] وم ھ۔
: یں 130+ 0۰۸
تصور اول: جحاجحت روا
انسان گا ب[] ماننا 5[] کوئی
[لستی اس صضرورتیں پوری
۱ بی
حص موی ۸/
اہن نج ۱
۱ 61 ٠ظ ۱
تصور دوم: برتر او
.س6
لازم |][] 5[] اس [استی کو اپنل
سٍ] بالاتر سمجھا جائ(][] بڑا
برتری صرف مرتب[] میں ن[لیں,
بلک[] طاقت اور زور میں بھی
تسلیم کی جائ ]]]]
٦
با |
یں حواس کإ] دا
ٹور
پر راز کا پرد[] پڑا [لو[] جو
ثر۱]
اندازی
رر
ط×
[]
2
ا
کت
2
5ے
.۹ا
٢ا
: ٦
یں کل
سی یت
یں
: اض
لغوی معنی کا خلاص[
پس؛ "ال1[)' و[] [لستی |][] جس کڑ(] بار[] میں ی[] تصورات
رج وص شس ری وہ بیرف ںہ مت رحنیہت ۲
حمعفا بلب ة سد بت سر
لی الفنیل علی الررسنیة من!/
ترجم۔(]
ور انھوں ن[] |لل[] 5[] سوا''
دوسرا] ا[ْ(] بنا لی[]
و[] ان ك(] لیإ] ذربع(]
ااوں با ان کی حما
ا ےمم
سد
"٦ ٰ ٰ سسے_ -
بحیثیتِ ذریع[] :
7 ا ْ مھ ھ۶ ۱ 7 ور ے
وَانَجَذوا مِنْ دونِ الله الِهَةَ
ما وہ ہی
م یتضر د۷۴
ایز انھلوں ت[] الل(] ک(] سوا''
دوسر۔] ا[(] بنا لی[] الیں اس ام
پر ک[] ان کی مدد کی جا:[]
م ا لوتا ][١[
ما سراہ رگا فصور
کو اپنا پشت پنا[] سمجھ:]]
تھ[][] ان کا عقید[] تھا ک[] ب[]
ان کی حفاظت کرت٢
تیجمٹیار|] رب 5([] فیصل(] کا''
وقت آگیا تو ان ک(] و[ الٰ[]
جنھیں و[] الل[] ک[] سوا پکارا
ن کإ] کچھ بھی کام
ٹوچ![(]] کی بجائ[] جنھیں
کسی چیز ک[] بھی خالق نا[لیں [لیں بلک[] و[] خود
مخلوق [لیںء مرد[] [لیں ن[] ک[] زند[]ء اور انھیں بإ[
لائے[ن
جا[ لیت کڑ[] اأ[] کون تھ[]؟
٭ لوگ جن اأٰ[لوں کو پکارت|] تھ-[]ء و[] صرف
ہ فشوجتلان چیپ ہا چوفتا [یاف ای ں 6را( بزرگ) بھی
٭ إِژْبا کا گَهلالا تھا ک([] ی(] [لستیاں ان کی دعائسں
٠ بسنت34] یں ملا ؤین 1س مدبجا .کر (آ یں 7۵ 8اجریا5)
طریق([] س(] [لوتی [][]1]
کا تد تاور ]سوا کا تحت مد مانگہ اك
جو حواس سا دور زا (جیس( کوئی فوت شد بزرگ) تو
پ(] اس 'اان' بنانا 7٦ء کیونكا] اس میں ب(] عقیدق شامل
][]] ک[] و[] عالم اسباب سز بالاتر و کر سنتا اور مدد
کرتا [][][] ا[ بنانا جک
فوق الاسباب باب ک[] تحت
)0 قد
جا[الیت کإ] عقائد کا
٭ 1 ا[لوں کے محاف ا اور6وگا
٭ وج آا سد جالع الاں اب ۳۹ 1
* و یقامجم3[)متو(]ءایگتا ٢۹٢0۸50۷
کكج([] إلاں سفارش کر س٤ ن
٭ اس گا عقید(] تھا ک([] ب(] ال[ يف
۹ژ"ءءٴِْ
نقصان پ[]نچان[] یا نفیع دیذ]] |
ستتطلقتي ےر ین .یل
قرآن کا استدلال: اص
قرآن غیر الل[] کی الو[یت کا
انکار اور صرف الل(] کی
'الوإ| یت کا اثبات 'اقتدار
کإ[] (۲۷)٘آت[۱آئ:'']۸۱۷۲ 50۷۵۲۵۱۱) ۹
تصور پر کرتا [](]]] الو[ لیت
کی اصل روح اقتدار لی [۲[][]
ہ۔+چویتت-
فوق الطبعی اقتدار کا تصور
کسی س([] دعا مانگنا یا اس(] حاجت روا سمجھنا. اس
ری ھ٭ھ کو ے
اانَخْذ من دَویه الِمَةً ان بُرڈن
09 رب
ا بثاوؤں ک(] اگر رحمٰن مجھ(ا ۰
کوئی نقصان بل[ انچانا جا|]]اتو چا 0ے
ن[] ان کی سفارش میر[] کچھ
'
'_ ہے
٠
ای۔:
ضر ابعمی]|آ تَحَدُوا من دَونه أَولِمَاء
َا تَقْنْذْهُم إِلّا لِثْقژڑثوتا إلّی
ال تَلَمو
اورک لوگوں نا ا0ل ک۱ا ''
سو دوسر[] کارساز بنا رکھڑا
[لیں (و[] ک( ات( الیں) 5[] الام تو
ان کی عبادت صرف اس لیا
7-7 آ9
افتدار کی ایک اور
کَدُوا پیا ورڑھبانھم
َو اتا
سوںا) آلنووز؟'۔ ۳۱
ترچملا ن[] اپن(] علماء اور''
دروبشوں کو الل[] ک5إ(] سوا اپنا
ھ_ ''ر ب بنا _لیا!]
ا ال٦ بنا لیا؟
ا الو[ لیت کی اصل روح: اقتدارِ اعلیٰ
پس الو[لیت کی جڑ 'اقتدار' [][]]] ب[] اقتدار دو طرح کا
1
بجست7 گوق الطبعہ
دنیا حکم نظام کا اقتدل
قرآن کا مرکزی استدلال
قرآن کا استدلال ی[] [][] ک[] زمین اور آسمان میں ایک لی
[]لستی تمام اختیارات و اقتدارات کی مالک ۲٦٦[
٭ خلق (پیدا کرنا) اسی کا (]|[]]]
٭ نعمت اسی کی |[(]1]
٭ امر (حکم) اسی کا [][]]]
٭ قوت اور زور بالکل اسی 5ک]ٍ] ١ اتھ میں [][][]
رہ ابی ای 11(
[[]ء اس لی[] حقیقت میں
کرئں دسر اق ہیں یں
[] لإذاء عبادت: دعاء اور
اطاعت جیس۔]] تمام اعمال
صرف الل[] ک(] لی[] مخصوص
۸ ون[] جا|]: 0 کیونگ]] وأ إی
قرآن مختلف دلائل سڑ] ب[
ثابت کرتا [][] ک([] تمام
اقتدار صرف الل[] ک[] پاس
20ھ
اوک
کیا الا کإ[] سوا کوئی دوسرا“
خالق ]ا جو تمإ یں اسعات
اور زمین س[] رزق دیتا |]و؟
کإ[] سوا کوئی 01 ن[للیں
2 سارک وہ ٦
ای 7:
ا5 ]]٥
ام ڑا 39
اعد اور ببنائی
ور تم[]ار[] دلو 2
کر د[] تو الل[] کإا سا ا
۹ -< 1
دلیل ۴: اقابل تقس
اقتدار تقسیم نإلیں ]و سکتان
ب[] ممکن نإلیں کإ] خلق کا
اختیار کسی کإٍ] پاس او اور
رزق کا کسی اور ک[] پاس[]
کائنات کا نظام ایک |ی
مرکزی حاکم کا تقاضا کرتا
جلیلناھن, چامیت نگم وطیِأنیلق تو حاکم, آمر
اور قانون ساز بھی اسی کو []ونا چا|ی۔][] جس طرح
کوئی دوسرا حاجت روا ن[لیں الو سکتاء اسی طرح کوئی
٠ حکم اور بادشا]ی
٭٣.(] سب ایک [ی اقتدار ک[] مختلف پإ]لو الیں[]
رخلاصلی دای روح جح
نام قینہ| ]۹ اقتدارِ اعلیٰ کی
مالک [][][] اس میں کائنات پر ک
فوق الطبعی اختیار بھی شامل
1 اور انسانوں ک(] لی[] قانون ۷
سازی اور حاکمیت کا حق
بھی[] چونگ[] ب[] سارا اختیار
صرف ال کل بپاس (][]ء اس